13 جنوری 2012 - 20:30

سعودی عرب کے ایک مبصر حمزہ حسن نے کہا ہے کہ آل سعود کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور ان ہی مظاہروں کے نتیجے میں آل سعود کی حکومت ختم ہوجائے گي۔

ابنا: حمزہ حسن نے فارس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ سعودی عرب کے مختلف علاقوں بالخصوص مشرقی صوبوں میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور یہ حکومت روز بروز کمزور ہوتی جارہی ہے جس کی بناپر ہم کھ سکتے ہیں کہ آل سعود کی حکومت اضمحلال کی طرف بڑھ رہی ہے۔

سعودی عرب کے اس انقلابی رہنما نے کہا کہ ملک میں جاری احتجاجی مظاہروں سے پتہ چلتا ہے کہ عوام آل سعود کے ظلم وستم کا شکار ہیں۔ حمزہ حسن نے کہا کہ آل سعود کی حکومت استبدادی ہے اور اس میں ایک خاندانی اقلیت شامل ہے اور یہ ایک انتھا پسند فرقہ وارانہ حکومت ہے جو دیگر فرقوں کے حقوق پامال کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آل سعود اپنی حکومت کو بچانے کےلئے تشدد کا استعمال اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہابی ٹولہ اقلیت میں ہونے کے باوجود حکومت کے تمام ارکان پر قابض ہے اور ملک کی پچانوے فیصد ثروت و دولت پر مسلط ہے جس کے نتیجے میں ملک کے دیگر باشندے محرومیت اور غربت کا شکار ہیں اور ملک میں سماجی طبقات میں بہت زیادہ خلیج پائي جاتی ہے۔

یاد رہے سعودی عرب کے عوام سیاسی اور مذہبی آزادی نیز عدل و انصاف پرمبنی حکومت کا مطالبہ کررہے ہیں۔ مظاہرین پر سعودی عرب کی سکوریٹی ایجنسیوں کی وحشیانہ فائرنگ میں کئي افراد شہید اور زخمی ہوچکے ہیں۔ .........

/169